Wednesday, June 25, 2014

کیا ہماری توبہ بھی قبول ہو گی……؟

آسمان کا رنگ تانبے کی طرح گرم ہو کر خوفناک ہوتا جا رہا تھا۔ سرخ آندھی نے ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ بستی کے ہر شخص کو اندازہ ہو گیا تھا کہ ہمارا رب ہم سے ناراض ہے اور غلطی کی سزا اللہ کا غضب بن کر آسمان سے اترنے والی ہے۔ جب کسی ذی روح کو موت کا یقین ہو جائے تو ترجیحات بدل جاتی ہیں، رشتے ناطے بدل جاتے ہیں اسی طرح اس وقت کا منظر تھا۔ اللہ کا عذاب آنے کو ہی تھا کہ بستی کے ایک بزرگ نے پوری بستی کو ایک پہاڑ پر اکٹھے ہونے کو کہا اور حکم دیا کہ بستی کا کوئی فرد گھر میں نہ رہے یہاں تک شیر خوار بچوں کو بھی اپنے ساتھ لانے کا حکم دیا گیا  پوری بستی کو اب اپنے نبی کی اصلیت پر یقین ہو چکا تھاکہ وہ واقعی رب کا بھیجا ہوا نبی تھا جو ناراض ہو کر بستی چھوڑ گئے ہیں۔ بستی کے لوگ پہاڑ پر اکٹھا ہونا شروع ہو گئے۔ آندھی تیز سے تیز ہوتی جا رہی تھی اور لگ رہا تھا کہ پوری بستی زمین سے نیست و نابود ہو جائے گی۔ 

بزرگ نے ماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب دعائے مغفرت شروع ہو تو مائیں اپنے شیر خوار بچوں کو اپنے سینوں کے ساتھ لگا کر دودھ پلانا شروع کر دیں اور جب دعا عروج پر پہنچے تو مائیں اپنے بچوں کو اپنی چھاتیوں سے الگ کر دیں۔ ہر لمحہ حالات بدل رہے تھا آسمان کا رنگ چیخ چیخ کر شور مچارہا تھا آج وقت ختم ہونے والا ہے۔ ہر طرف ایک وحشت اور خوف تھا۔ وہ کہاں بھاگ جائیں ہر بشر کی یہی سوچ تھی۔اللہ پاک سورۃ القیٰمۃ آیت نمبر ۰۱میں فرماتا ہے ”اور 
اس وقت انسان پکار اٹھے گا کہ بھاگ کر جانے کا ٹھکانہ کہاں ہے“ 

دعا جب اپنے عروج پر پہنچی تو ماؤں نے بچوں کو اپنے سے الگ کیا تو جیسے بچوں پوری کائنات نے رونا اور چلانا شروع کر دیا ہو۔ ہر چہرے پر آخری لمحوں کی چھاپ تھی۔ موت سے چند لمحے پہلے والے تاثرات کوئی نہیں بیان کر سکتا۔ موت اٹل ہے۔بچوں نے جیسے اللہ کا عذاب بھانپ لیا اور اپنے آباء کیلئے اتنا زور سے اپنے رب کے آگے گڑگڑائے کہ اللہ کے قہر کی بجائے اس کی رحمت جوش میں آگئی۔ یہ وہ پہلی قوم تھی اس تاریخ انسانیت میں جس پر اللہ کے عذاب کا فیصلہ ہو چکا تھا مگر آخری لمحوں میں فیصلہ واپس لے لیا گیا۔ شاید رب کو اپنے نبی حضرت یونس ؓکی سہو کا بھی پاس تھا اور ان معصوم بچوں کی جانوں کا بھی۔دعائے مغفرت کے ساتھ ساتھ بچوں کے اس اجتماعی رونے اور حضرت یونسؓ کے واقعہ نے ایک نئی تاریخ رقم کی اور اللہ کے غیض و غضب کو ٹھنڈا کر دیا۔ 

جن قوموں پر عذاب آیا وہ شاید ایک ایک جرم کی وجہ سے نیست و نابود کر دیا گیا کوئی قوم کم تولتی تھی تو کوئی زنا کرتی تھی غرضیکہ صرف ایک گناہ کی پاداش میں وہ بستی صفحہ ہستی سے مٹا دی جاتی۔ 

ہم بھی آج ایسی ہی تکلیف دہ صورتحال سے دوچار ہیں۔ ایمان و یقین کے زوال سے جو جو برائیاں ہمارے سماج میں سرایت کر گئیں ہیں۔ منافقت و کرپشن کی ثقافت نے حرص و ہوس کا ایسا بازار گرم کیا ہے کہ انسانیت سسکنے لگی ہے۔ خوف و دہشت کی صورت میں عذاب الہیٰ ہر وقت انگڑائیاں لیتا رہتا ہے۔ محبوب خدارحمت اللعالمین ؐ کا صدقہ ہی ہے کہ ہم پر کھلا عذاب الہیٰ نہیں آتا۔ ورنہ تمام پیغمبروں کے نافرمانوں کی برائیوں کو اکٹھا کیا جائے تو بھی ہمارا پلڑا بھاری نظر آتا ہے۔ اس صورتحال میں میرے سامنے سوال یہ نہیں کہ یہ عذاب نما عتاب الہیٰ ہم پر کیوں ہے؟ 

میں تو اس بات پر زیادہ پریشان ہوں کہ کیا ہمارے درمیاں ایسے صاحب کردار بزرگ و دانا بھی نہیں رہے جو ہماری راہنمائی کریں ہمیں توبہ پر آمادہ ہی نہ کریں اس کا سلیقہ و طریقہ بھی بتائیں۔ کیا ہماری نیتیں اتنی فتور زدہ ہو گئی ہیں کہ ہمارے بچوں کا بلکنا بھی آسمانوں کو نہیں چیر پاتا۔ ہمارے گناہ اپنی جگہ مگر فضل ربی کی کوئی انتہا نہیں۔حضرت یونس ؑ کی قوم کو اگر معافی مل سکتی ہے تو ہمیں کیوں نہیں ……؟ہم تو ہر سال کبھی ماڈل ٹاؤن، کبھی رائیونڈ، کبھی مریدکے، کبھی ملتان و کراچی میں لاکھوں کے اجتماعی میلے لگاتے ہیں مگر ہماری دعائیں بے ثمر رہتی ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ ہم دعاؤں کو جعلی اداؤں سے پاک کریں اور یقین اور اخلاص سے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لیں۔ رب کا فضل ہماری طرف دیکھ رہا ہے ہم ہی ہیں جو آنکھیں رکھتے ہیں مگر دیکھتے ہیں۔ ہر وہ شخص جو یہ سمجھتا ہے کہ ہماری صورتحال ثواب کی نہیں عذاب کی صورت بنی ہوئی ہے وہ صدق دل سے اجتماعی توبہ کا حصہ دار بنے تاکہ ہماری توبہ قبول ہو اور تمام تر مادی ترقی کے باوجود جو باطنی آگ ہے وہ ٹھنڈی ہو۔